اگر چاند اچانک غائب ہو جائے تو کیا ہوگا What if the moon suddenly disappears?

اگر چاند اچانک غائب ہو جائے تو کیا ہوگا  What if the moon suddenly disappears?

چاند قدیم زمانے سے ہی اپنی ہلکی دودھیا روشنی اور پراسرار وجود کے ساتھ انسانیت کو مسحور کرتا رہا ہے ۔ تاہم، اگر چاند اچانک غائب ہو جائے تو کیا ہوگا؟ چاند کے اچانک غائب ہونے کا فرضی منظرنامہ سائنس دانوں اوردیگر شائقین کے درمیان یکساں طور پر مقبول رھا ھے اور وہ اس کے ممکنہ اثرات اور دور رس نتائج کی کھوج کرتے رہے ہیں ۔

چاند کے غائب ہونے کے سب سے زیادہ واضح اثرات میں سے ایک سمندر میں جوار بھاٹے کا ختم ہو جانا ہے ۔ چاند کی کشش جوار بھاٹا پیدا کرنے، سمندری ماحولیاتی نظام، ساحلی مناظر اور نیویگیشن کو متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چاند کی کشش ثقل کی قوت کے بغیر، لہریں کافی حد تک کمزور ہو جائیں گی، جس کے نتیجے میں ساحلی رہائش گاہیں تبدیل ہو جائیں گی اور سمندری ماحولیاتی نظام کے پیچیدہ توازن میں خلل پڑے گا۔

لہروں میں دو تہائی کمی ساحلی ماحولیاتی نظام کو یکسر تبدیل کر دے گی،بلکہ ممکنہ طور پر اسے تباہ کر دے گی اور توانائی، پانی، معدنیات اور دیگر وسائل کے بہاؤ میں خلل ڈالے گی۔ اونچی اور نیچی لہروں کے درمیان سمندری علاقوں میں پورا ماحولیاتی نظام موجود ہوتا ہے۔ کیکڑوں، گھونگوں، بارنیکلز، مسلز، سمندری ستارے، کیلپ وغیرہ کی بہت سی اقسام بقا کے لیے جوار کے روزانہ آنے اور جانے پر انحصار کرتی ہیں۔ یہ ماحولیاتی نظام بدلے میں ہجرت کرنے والے اور مقامی پرندوں کے ساتھ ساتھ زمینی ممالیہ جیسے ریچھ، ریکون جیسے جانوروں کی خوراک کا انتظام کرتا ہے

چاند کی کشش کے باعث زمین اپنے محوری جھکاؤ کو قائم رکھتی ہے اور موسموں کی شدت اور مدت میں ایک استحکام قائم رہتا ہے ۔ چاند کے بغیر، زمین کا محوری جھکاؤ اتار چڑھاو کا شکار ہوتا رہے گا جس کے باعث غیر متوقع اور شدید موسمیاتی تغیرات پیدا ہوں گے۔ یہ تغیرات ممکنہ طور پر زراعت پر اثر انداز ہوں گے جس کے باعث غذائی بحران جنم لے سکتا ہے ۔ موسموں میں آنے والے تغیر و تبدل ماحولیاتی تبدیلیوں کا باعث بن سکتے ہیں ۔

چاند کی عدم موجودگی رات کے نظارے کو یکسر تبدیل کر دے گی ۔ چاند کی موجودگی رات کے اوقات میں نیم تاریکی کا ماحول پیدا کیے رکھتی ہے ،بعض اوقات ہم بلب کی روشنی کے بغیر بھی باہر گھومنے پھرنے کے قابل ہوتے ہیں چاند کے غائب ہو جانے کے باعث رات کی تاریکی شدت اختیار کر لے گی ہمارے رات کے آسمان کی ظاہری شکل کو یکسر بدل دے گی ۔

  اس کا اثرجنگلی حیات کے رویے پر بھی پڑے گا ، ، بہت سے جانور ، جیسے شیر اور الو وغیرہ رات کے اوقات میں شکار کے لئے چاند ۔ کی ہلکی روشنی پر انحصار کرتے ہیں ۔ چاند کی غیر موجودگی میں مکمل تاریکی میں انہیں شکار کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی، جبکہ چوہوں اور چھوٹے جانوروں کو چھپنے میں آسانی ہو گی اس طرح کچھ انواح کی تعداد بڑھ جائے گی جبکہ کچھ میں کمی واقع ہو گی۔

 چاند کئی دہائیوں سے سائنسی تحقیق کا موضوع رہا ہے، اور اس کی عدم موجودگی قمری تحقیق اور متعلقہ شعبوں پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ انسانی مشن، قمری روور، اور رصد گاہیں اپنا بنیادی ہدف کھو دیں گی، جس سے خلائی تحقیق کا مرکز بدل جائے گا۔

  چاند کو مختلف معاشروں میں نمایاں ثقافتی اور علامتی اہمیت حاصل رہی ہے۔ یہ فن، ادب، لوک داستانوں اور مذہبی عقائد کے لیے تحریک کا ذریعہ ہے۔ اس کے غائب ہونے سے انسانی ثقافت میں ایک انمٹ خلا پیدا ہو جائے گا، کیونکہ ہم خوبصورت تشبہا ت و استعارات اور افسانوی ادب کے لئے خوب صورت منظر نگاری کے لازوال منبع سے محروم ہو جائیں گے جس نے صدیوں سے ہمارے افسانوں، روایات اور اجتماعی تخیل کو تشکیل دیا ہے۔

اگرچہ چاند کا غائب ہونا ایک غیر متوقع منظر ہے، لیکن اس کے نتائج پر غور کرنے سے ہمیں اپنی زندگی میں چاند کے کثیر جہتی کردار اور اہمیت کا احساس ہوتا ہے ۔ لہروں اور آب و ہوا کو متاثر کرنے سے لے کر انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کرنے تک، چاند کی عدم موجودگی ہمارے سیارے کے قدرتی نظام، سائنسی کوششوں اور ثقافتی ورثے پر دور رس اثرات مرتب کرے گی۔ جب ہم رات کو آسمان پر چمکتے چاند کو دیکھتے ہیں تو اس قدر لطف محسوس ہوتا ہے جس کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں ۔ انسان جلد ہی تاریک راتوں سے بیزار ہو جاتا ہے اور چاندنی راتوں کے سحر زدہ ماحول کی آرزو رکھتا ہے ۔ شکر ہے کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ چاند تباہ ہونے والا ہے یا ہمیں چھوڑ کر کسی دوسرے سیارے کے مدار میں جانے والا ہے۔

چاند کا حسن بھی زمین سے ہے

چاند پر چاندنی نہیں ہوتی

 

CATEGORIES
TAGS
Share This

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus (0 )