Some common misconceptions about diet خوراک کے حوالے سے پائی جانے والی چند غلط فہمیاں

Some common misconceptions about diet خوراک کے حوالے سے پائی جانے والی چند غلط فہمیاں

آپ کو دن میں آٹھ گلاس پانی پینے کی ضرورت ہے

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر آپ آٹھ گلاس پانی دن میں نہ پئیں تو آپ پانی کی کمی کا شکار ہو جائیں گے جس کے نتیجے کے طور پر جوڑوں میں درد ، چہرے کی جھریاں یا ذہنی انتشار جیسے مسائل جنم لیتے ہیں ۔ لیکن کیا آٹھ گلاس پانی پینا واقعی اچھا مشورہ ہے؟ دراصل اس کا انحصار آپ کی عمر ، آب و ہوا اور آپ کی جسمانی سرگرمی پر ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہا ئیڈریٹ رہنے کے لئے آپ کو تقریبا ایک لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے ، مگر اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ جتنا سیال پیشاب یا پسینے کی صورت میں خارج ہو رہا ہے اس نسبت سے آپ پانی کا استعمال کر رہے ہیں یا نہیں ۔ اگر ہماری جسمانی سرگرمی کی سطح زیادہ ہے تو یقینا ہمیں زیادہ پانی کی ضرورت ہو گی ۔

نامیاتی خوراک غذائیت سے بھر پور ہوتی ہے

آرگینک فوڈ یا نامیاتی خوراک نسبتا مہنگی ہوتی ہےکبھی کبھی تو یہ دوگنی قیمت میں دستیاب ہوتی ہے ۔ 2012 میں اسٹینفورڈ یونیورسٹی اینڈ ویٹنگ آفیسرز پالو آلو ہیلتھ کیئر سسٹم کے محققین نے 200 سے زائد مطالعات کا جائزہ لیا جس میں نامیاتی اور روایتی کھانوں میں غذائیت کی سطح کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی صحت کا بھی جائزہ لیا جنہوں نے دونوں قسم کی خوراک کھائی تھی ۔ انہوں نے پایا کہ جانوروں اور پودوں سے حاصل کردہ خوراک میں وٹامنز کی مقدار یکساں ہوتی ہے چاہے انہیں کیسے بھی اگایا گیا ہو ۔ واحد ممکنہ استثنا ڈیری سیکشن میں ہوتا ہے جہاں کبھی کبھی نامیاتی دودھ ، دہی اور پنیر میں اومیگا 3 کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ۔

نامیاتی خوراک کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ جانوروں کی پرورش کے مخصوص انداز اور پیداوار بڑھانے کے طریقوں کے فرق کے باعث خوراک کے ذریعے کم بیکٹیریا یا کیڑے مار ادویات کے اثرات جسم میں داخل ہوتے ہیں ۔

رات گئے سنیکس کھانا وزن بڑھا سکتا ہے

بہت سے لوگ شام کے بعد کوئی چیز نہیں کھاتے کیونکہ ان کے خیال میں دیر گئے کھانا وزن میں اضافے کاباعث بنتا ہے ۔

خیال یہ ہے کہ رات کو دیر سے کھانا کھا کر جب ہم سو جاتے ہیں تو کھا نا ہضم ہونےمیں  دیر لگتی ہے  ، کیلوریز کے توانائی کے طور پر استعمال ہونے کا امکان کم ہوتا ہے جس کے باعث کمر کے گرد چربی کی تہہ بننا شروع ہو جاتی ہے جبکہ محققین کا کہنا ہے کہ میٹابولزم کبھی بھی کام کرنا بند نہیں کرتا یہاں تک کہ نیند میں بھی ۔ جہاں تک کیلوریز کا تعلق ہے تو ان کا ایک ہی اثر ہوتا ہے چاہے آپ انہیں دوپہر میں کھائیں یا آدھی رات کو ، اگر آپ زیادہ کیلوریز کھائیں تو آپ کا وزن بڑھ جائے گا ۔

انڈے دل کی صحت کےلئےنقصان دہ ہیں

انڈے کھانے اور دل کی بیماری کے درمیان کوئی براہ راست تعلق نہیں ۔ انڈے کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں کولیسٹرول ہوتا ہے جو شریانوں کو بند کر دیتا ہے ۔

ایک انڈے میں تقریبا 200ملی گرام کولیسٹرول ہوتا ہے ۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی سفارش ہے کہ ہم روزانہ 300 ملی گرام سے زیادہ کولیسٹرول نہ لیں ۔ درحقیقت کچھ کولیسٹرول سیل کی دیواروں کو مضبوط رکھنے اور وٹامن ڈی بنانے کے لئے اہم ہے ۔

دن میں تین مرتبہ پیٹ بھر کر کھانے کے بجائے چھ مرتبہ تھوڑا تھوڑا کھانا بہتر ہے

اگر آپ وزن کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو آپ کو یہ مشورہ ضرور دیا جاتا ہے ، لیکن برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق دونوں طرح کھانے والے ایک جتنا وزن ہی کم کر پاتے ہیں ۔

کیلوریز کیلوریز ہی ہوتی ہیں قطع نظر اس چیز کے کہ ان کا استعمال کب کیا جائے ۔ اس کے بجائے اگر آپ ورزش کا شیڈول تبدیل کریں اور ایک گھنٹہ وقف کرنے کے بجائے 10،10 منٹ دن کے مختلف اوقات میں ورزش کریں تو یہ آپ کے میٹابولزم کو بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا ۔

زیتون کا تیل صحت کے لئے زیادہ بہتر ہے

عمومی خیال یہ ہے کہ زیتون کا تیل صحت کے لئے اچھا ہے کیونکہ یہ اچھی چکنائی ہے ۔ اسے سلاد میں ڈالیں یا سبزیوں میں ڈال کر پکائیں اور تسلی کر لیں کہ آپ صحت بخش غذا کھا رہے ہیں ۔

اگرچہ یہ سچ ہے کہ زیتون کے تیل میں مونو ان سیچوریٹڈ فیٹ کی زیادہ مقدار ہوتی ہے  جو کہ  جانوروں سے حاصل کردہ سیر شدہ چکنائی سے بہتر ہے مگر ضروری نہیں کہ یہ دل کی صحت کے لئے مفید بھی ہو ۔

تیل جو کہ زیتون سے حاصل کیا جاتا ہے وہ بھی چکنائی ہی ہے ۔ ایک بڑے چمچ تیل میں 14 گرام چکنائی پائی جاتی یے  یہ چکنائی شریانوں کے لئے اچھی نہیں ہوتی۔ دیگر تیلوں کی طرح زیتون کے تیل میں بھی فی چمچ 120 کیلوریز ہوتی ہیں ۔ اگر زیتون کے تیل کو 400ڈگری فارن ہائیٹ پر گرم کیا جائے تو چکنائی کے کچھ مالیکیول ٹرانس فیٹ میں تبدیل ہو جاتے ہیں  اور یہ یقینی طور پر اچھا نہیں۔

اگرچہ اپنے غذائی فوائد کے باعث زیتون کا تیل استعمال کرنا بہتر ہے مگر اس کا استعمال بھی اعتدال کی حد میں رہ کر کرنا چاہئے ۔

CATEGORIES
TAGS
Share This

COMMENTS

Wordpress (1)
  • comment-avatar
    Sajida 2 years

    Informative

  • Disqus (0 )