اگر کشش ثقل چند لمحوں کے لئے غالب ہو جائے تو کیا ہو ؟

اگر کشش ثقل چند لمحوں کے لئے غالب ہو جائے تو کیا ہو ؟

کشش ثقل وہ قوت ہے جو زمین اپنے ارد گرد کی چیزوں پر لگاتی ہے ۔ ہر شے جو کمیت رکھتی ہے کشش ثقل اس پر اثر انداز ہوتی ہے چاہے وہ ایک بلند وبالا عمارت ہو یا ایک ہلکا پھلکا سا کیڑا ۔ کوئی شے جتنی وسیع ہو گی اس پر کشش ثقل اتنی ہی زیادہ  اثر انداز ہو گی ۔

کشش ثقل کے بغیر تمام چیزیں بے وزن ہو جائیں ۔ ہم نے اکثر فلموں میں خلا نوردوں کو  خلائی جہاز میں بے وزنی کی حالت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ اڑتے ہوئے دیکھا ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ منظر بہت دلچسپ ہوتا ہے مگر آپ نے کبھی سوچا ہے اگر زمین صرف پانچ سیکنڈ کے لئے کشش ثقل کھو دے تو کیا ہو ؟

کشش ثقل کے غائب ہوتے ہی نہ صرف انسان بلکہ زمین پر موجود ہر چیز تیزی سے گردش کرنے لگے گی اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین چونکہ اپنے مدار میں گھومتی رہے گی اس لئے زمین پر موجود ہر شے مخالف سمت میں اڑنے لگے گی ۔ اور اس طرح کادباؤ پیدا ہو گا جیسا ہوائی جہاز کے اڑان بھرنے کے وقت پیدا ہوتا ہے ۔

کشش ثقل کے خاتمے کا مطلب ہے کہ زمین اپنے گرد موجود ہوا ، پانی اور دیگر گیسوں کو کھینچنا بھی بند کر دے گی ۔ ہوا کے دباؤ میں پیدا ہونے والی یہ اچانک تبدیلی ہر انسان کے کان کے اندرونی پردے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گی ۔

زمین کے گرد پایا جانے والا ماحول اور گیسیں خلا میں چلی جائیں گی ۔ اس حفاظتی حصار کے ختم ہوتے ہی کوئی بھی جاندار زمین پر زندہ نہیں رہ پائے گا ۔

زمین پر آکسیجن کے ختم ہوتے ہی ہمارے گھر ، ڈیم ، اونچی عمارات اور کنکریٹ سے بنے تمام ڈھانچے فوری طور پر گر جائیں گے ۔ آکسیجن کنکریٹ کے لئے خاص بائنڈنگ ایجنٹ کے طور پر کام کرتی ۔ آکسیجن کے بغیر کنکریٹ مٹی کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں۔

آکسیجن کے بغیر پانی فورا ہائیڈروجن گیس میں تبدیل ہو جائے گا جس کے باعث ہر جاندار خلئے میں دھماکے ہونے لگیں گے ۔ یہ سب ہونے کے بعد اگر پانچ سیکنڈ بعد بھی کشش ثقل واپس آ جائے تو دنیا میں کوئی بھی جاندار زندہ موجود نہیں ہو گا ۔

سمندر بخارات بن کر خلا میں پرواز کر جائیں گے ۔ جیسے ہی سمندروں کے پانی سے آکسیجن ختم ہو جائے گی تو آکسیجن گیس ہلکی ہونے کے باعث بالائی ٹروپو سینیئر کی جانب اٹھ جائے گی اور آہستہ آہستہ ایٹموسفئیرک اسکیپ کے ذریعے خلا میں چلی جائے گی ۔

اور اگر کشش ثقل دوگنی ہو جائے تو یہ صورتحال بھی اتنی ہی تباہ کن ثابت ہو گی کیونکہ ہر چیز دوگنی بھاری ہو جائے گی اور مکانات ، پل وغیرہ زمیں بوس ہو جائیں گے ۔ درختوں اور پودوں کے لئے بھی یہ صورتحال پریشان کن ثابت ہو گی۔ بجلی کی لائینوں میں مسائل پیدا ہوں گے ۔ ہوا کا دباؤ دوگنا ہو جائے گا اور اس کا موسم پر بہت اثر ہو گا ۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشش ثقل زمین پر زندگی کے لئے کتنی ضروری ہے ۔ اس کی شدت میں معمولی سی تبدیلی بھی ہم برداشت نہیں کر سکتے ۔

ہم میں سے زیادہ تر لوگ شائد ہی کبھی ایسی نعنتوں کے لئے خدا کے حضور شکر گزار ہوئے ہوں ۔ شکر گزار ہونا تو دور کی بات ہے ہم نے یہ محسوس کرنے کی زحمت بھی شاید ہی کی ہو کہ ہمارے ارد گرد کا ماحول ، ہوا کا متناسب دباؤ کس قدر بڑی نعمتیں ہیں جن کی موجودگی کا ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا اور چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لئے ہم شکوہ کناں رہتے ہیں ۔

Sorce:[cote]

1
2
3
4
CATEGORIES
TAGS
Share This

COMMENTS

Wordpress (2)
  • comment-avatar
    Asma 2 years

    Really thought provoking. Good one.👍

  • comment-avatar
    Asma 2 years

    Really thought provoking.Good one.👍

  • Disqus (0 )