کمیونیکیشن میں درپیش رکاوٹوں کو کیسے دور کیا جائے How to overcome communication barriers

کمیونیکیشن میں درپیش رکاوٹوں کو کیسے دور کیا جائے How to overcome communication barriers

 کمیونیکیشن یا رابطہ ایک انسان سے دوسرے انسان تک پیغام رسانی کا عمل ہے ۔ ضروری نہیں کہ یہ عمل صرف زبان کے ذریعے ہی ہو اس سلسلے میں کیا گیا ہمارا ہر عمل بات چیت کے زمرے میں آئے گا مثلا بھیڑ میں کسی دوست کو دور سے دیکھ کر کوئی اشارہ کرنا یا ہاتھ ہلا دینا بھی کمیونیکیشن کا ایک اندازہے۔ کمیونیکیشن سے مراد افراد یا کسی ایک فرد تک اپنے پیغام کی ترسیل ہے ۔

رابطے کا فقدان کیوں پیدا ہوتا ہے؟

رابطے کے فقدان سے ہر وہ عمل مراد لیا جا سکتا ہے پیغام بھیجنے یا وصول کرنے والے کے درمیان حائل ہوتا ہے ۔ مختلف طرح کی رکاوٹیں اس پیغام کی نوعیت کو تبدیل کرنے یا وصول کننده کو اسے سمجھنے کے راستے میں حائل ہوتی ہیں ۔ یہ مختلف طرح کی کمیونیکیشن کی رکاوٹیں رابطے کے عمل میں کسی بھی مرحلے پر پیش آ سکتی ہیں ۔تعصبات اور مختلف طرح کے دقیانوسی تصورات اس کا باعث بنتے ہیں ۔

ایک ماہر کمیونیکیٹر موثر رابطے کی راہ میں حائل مختلف رکاوٹوں کا جائزہ لیتا ہے اور انہیں دور کرنے کوشش کرتا ہے تاکہ پیغام کو صحیح معنوں میں سمجھا جا سکے ۔

کمیونیکیشن کے غیر موثر ہونے کی کئی ایک وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں 

غیر مانوس اصطلاحات کا استعمال

اگر غیر مانوس  یا پیچیدہ اصطلاحات استعمال کی جائیں تو انہیں سمجھنا  مشکل ہو جاتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جن لوگوں تک پیغام پہنچانا مطلوب ہو ان کے فہم کے مطابق الفاظ اور اصطلاحات استعمال کی جائی

 زبان کا فرق 

 زبان یا الفاظ میں فرق مؤثر کمیونیکیشن میں رکاوٹ بن سکتا ہے، خاص طور پر جب افراد کسی خاص زبان سے ناآشنا ہوں یا کسی خاص زبان میں محدود مہارت رکھتے ہوں ۔ مختلف علاقوں کے لہجوں میں فرق بھی پیغام کو سمجھنا مشکل بنا دیتا ہے 

 ثقافتی رکاوٹیں

مختلف ثقافتوں میں سماجی تعلقات رکھنے کے مختلف اصول ہوتے ہیں ۔ ثقافتی فرق، بشمول اصول، اقدار، اور سماجی رسم و رواج، مواصلات کے دوران غلط فہمیاں اور غلط تشریحات پیدا کر سکتے ہیں، کیونکہ لوگ مختلف توقعات یا اپنے اظہار کے طریقے رکھتے ہیں۔ مثلا بعض ثقافتوں میں خاندان اکٹھے رہتے ہیں اور آپس میں گھل مل کر رہنا ہی صحیح طرزِعمل سمجھا جاتا ہے جبکہ بعض جگہوں پر لوگ اپنی پرائیویسی کو بہت اہمیت دیتے ہیں ۔ یہ ثقافتی اختلافات موثر کمیونیکیشن کے عمل کو روک سکتے ہیں ۔

 جسمانی رکاوٹیں

 جسمانی عوامل جیسے فاصلہ، شور، آواز کا بہت مدھم ہونا ، یا بصری رکاوٹیں مؤثر کمیونیکیشن میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔  مثال کے طور پر، ایسی جگہ پر بات کرنا جہاں کوئی تعمیراتی کام ہو رہا ہو یا ٹریفک کے شور میں گفتگو کرنا،  اسی طرح اگر فون پر گفتگو کے دوران سگنل کمزور ہوں تو بھی پیغامات پہنچانا مشکل ہو جاتا ہے۔

آمنے سامنے کی بات چیت میں الفاظ کے علاوہ چہرے کے تاثرات اور باڈی لینگویج کے ذریعے بھی مطالب واضح کئے جاتے ہیں مگر فون کال، ٹیکسٹ میسج وغیرہ میں  جسمانی علامات موجود نہیں ہوتیں اس لئے بعض اوقات درست پیغام سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے اور مغالطے کا امکان رہتا ہے 

جذباتی رکاوٹیں

نفسیاتی عوامل جیسے ذاتی تعصب، دقیانوسی تصورات، یا جذباتی حالتیں پیغام کو درست انداز میں سمجھنے میں مشکلات پیدا کر سکتی ہیں ۔مخصوص جذباتی حالتوں کے باعث لوگ غلط تشریحات کرتے ہیں، دفاعی ردعمل دکھاتے ہیں یا بعض اوقات توجہ سے سننے سے قاصر رہتے ہیں ۔ حساس موضوعات بولنے والے اور پیغام وصول کرنے والے، دونوں کے لئے ہی رابطے کے عمل کو مشکل بنا دیتے ہیں ۔ جذباتی کیفیات کے باعث بعض اوقات الفاظ ساتھ  چھوڑ جاتے ہیں اور جذبات سے مغلوب ہو کر لوگ اپنا مافی الضمیر درست انداز میں بیان نہیں کر پاتے ۔ بعض موضوعات حساس نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان پر گفتگو کرتے ہوئے لوگ جلد جذبات سے مغلوب ہو جاتے ہیں ۔ایسے موضوعات میں سیاست،مذہب، کوئی ذہنی یا جسمانی معذوری شامل ہو سکتے ہیں ۔بہت سے لوگ چیزوں کے بارے میں پہلے سے ہی مخصوص تصورات رکھتے ہیں اس لئے وہ صرف وہی سنتے ہیں جو وہ سننا چاہتے ہیں وہ نہیں جو کہا جا رہا ھے ایسے دقیانوسی تصورات کمیونیکیشن میں رکاوٹ پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں ۔

توجہ یا دلچسپی کا فقدان

توجہ نہ دینا ، ناموافق ماحول کے باعث ، ملٹی ٹاسکنگ کرنے یا دوسرے خیالات میں مشغول ہونے کی وجہ سے کمیونیکیشن کے مسائل پیدا ہوتے ہیں 

 

کمیونیکیشن کی رکاوٹوں کو کیسے دور کیا جائے

 

کمیونیکیشن کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے اور پیغام کو واضح انداز میں  پہنچانے کے لئے درج ذیل اقدامات کئے جا سکتے ہیں ۔

خیالات واضح ہوں

پیغام بھیجنے والے کے دماغ میں واضح خیالات ہونے چاہئیں کہ وہ کیا پیغام دینا چاہتا ہے ۔ اسے پیغام کا مقصد معلوم ہونا چاہئے اور اس کے مطابق واضح پیغام دینا چاہئے ۔

پیغام وصول کنندہ کی ذہنی سطح کے مطابق ہو

پیغام بھیجنے والے کو پیغام اپنی ذہنی سطح نہیں بلکہ وصول کنندہ کی ذہنی سطح، سمجھ اور ماحول کو مدنظر رکھ کر دینا چاہئے تاکہ وہ اسے بہتر طور پر سمجھ سکے ۔

لہجہ واضح اورشائستہ ہو

پیغام دینے والے کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ لہجہ واضح ہو اور انداز شائستہ ہو تاکہ بات سننے والے کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے ۔ مناسب پیغام بھی سخت  اور غیر مہذب انداز میں دیا جائے  تو پیغام کا تاثر تبدیل ہو جاتا ہے ۔

فیڈ بیک حاصل کریں

فیڈ بیک حاصل کرنے کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا وصول کنندہ نے موصول ہونے والے پیغام کو درست انداز میں سمجھنے لیا ہے ۔ آمنے سامنے کی گفتگو میں پیغام وصول کرنے والے کے تاثرات سے یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے مگر جب پیغام رسانی کا عمل دور بیٹھ کر کیا جائے تو واضح فیڈ بیک لینا چاہئے۔

فالواپ کمیونیکیشن 

کمیونیکیشن کو بہتر بنانے کے لیے اس سلسلے  میں پیش آنے والی مشکلات کو جاننے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ معلوم کرنا چاہئے کہ رسمی گفتگو بہتر رہے گی یا غیر رسمی ۔

 

CATEGORIES
TAGS
Share This

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus (0 )