سرنگا پٹم کا زوال

سرنگا پٹم کا زوال

میسور کا حکمران ٹیپو سلطان آزادی کے جذبے سے سرشار ایک پر جوش حکمران تھا ۔ ہندوستان کے جنوب میں برطانوی توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے لئے ایک ڈراونا خواب بنا ہوا تھا ۔

ٹیپو نے مختلف مواقع پر دلیری ہمت اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا جن میں پہلی دوسری اور تیسری اینگلو میسور جنگیں شامل ہیں جن میں انگریزوں کو شکست ہوئی اور ٹیپو سلطان نے فتح حاصل کی ۔

اپنی تمام تر بہادری اور جنگی مہارت کے باوجود ٹیپو سلطان 1799 میں لڑی جانے والی چوتھی اینگلو میسور جنگ ہار گیا ۔

سرنگا پٹم کا اچانک زوال جس کے نتیجے میں ٹیپو سلطان کی موت واقع ہوئی ، علمی دنیا میں ایک بڑی سازش کی طرف اشارہ کرنے والا موضوع رہا ہے جس کے نتیجے میں اس پر وسیع تحقیق بھی ہوئی ہے ۔

مورخین کے نزدیک ٹیپو سلطان ایک مدبر حکمران تھا ۔ اس نے تجارتی اور صنعتی ( خاص طور پر کاٹیج   انڈسٹریز) کی ترقی کے لئے منصوبہ بندی کی ۔ انہوں نے آبپاشی کے نظام کے ذریعے زراعت کی ترقی کے لئے بھی کوشش کی ۔

یہ ٹیپو سلطان تھے جنہوں نے ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا تھا کہ اگر ہندوستانیوں نے انگریزوں کی طرف سے درپیش چیلنجز کا سامنا نہ کیا اور پرانے روایتی ہتھیاروں اور جنگی طریقوں پر انحصار کیا تو وہ جلد ایک غلام قوم بن جائیں گے ۔

اس مقصد کے لئے انہوں نے فرانسیسیوں کی مدد سے اپنی فوج کو جدید بنانے کی کوشش کی جس سے انگریزوں کو خطے میں اپنے مفادات خطرے میں دکھائی دینے لگے ۔

ٹیپو سلطان نے ایک اور خطرے کو محسوس کیا کہ ا نگریزوں کی طاقت دراصل ان کی بحری طاقت میں پوشیدہ ہے ۔ اس خطرے سے نپٹنے کے لئے ٹیپو نے اپنی سلطنت میں بحیرہ عرب کے ساحل پر بھٹکل اور مینگورہ میں ایک مضبوط ہندوستانی فوج بنانے کی کوشش کی ۔

ہندوستان میں برطانوی سامراج کی طرف سے لاحق خطرے کے فوجی اور بین الاقوامی پہلوؤں کو محسوس کرتے ہوئے ٹیپو نے ترکی کے خلیفہ اور نپولین بونا پارٹ کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی مگر یہ ہندوستان کی بد قسمتی تھی کہ انگریزوں اور ان کے ایجنٹوں کی سازش اور تخریب کاری نے سلطان کی کوششوں کو ناکام بنا دیا۔ ٹیپو سلطان    کےساتھ غداری کرنے

والوں میں میر صادق اور پورنیہ سر فہرست ہیں ۔ میر صادق اور پورنیہ جو با لترتیب سلطان کے وزیراعظم اور دیوان تھے ،انہوں نے انگریزوں کے ساتھ مل کر ٹیپو کی سلطنت کو تباہ کرنے کی سازش کی ۔

ٹیپو کی طرف سے اپنے قابل اعتماد دیوان کی حیثیت سے پورنیہ کی تقرری جو کہ وزیراعظم کے بعد سب سے زیادہ اہمیت کا حامل عہدہ تھا اپنی ہندو رعایا کے تیئں سلطان کی مہربانی اور فرقہ وارانہ سخاوت کی ایک مثال ہے ۔

ان کی سوانح میں لکھا گیا ہے کہ میسور کی چوتھی جنگ کے دوران جب وہ زندگی کی آخری اور سب سے عبرتناک جنگ لڑ رہے تھے ، میر صادق نے سلطان کو مشورہ دیا تھا کہ وہ انگریزوں سے معاہدہ کر لیں جس پر ٹیپو نے اپنا تاریخی جملہ کہا تھا :

“شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے “

وہ یقینا دشمن پر کاری ضرب لگاتا اگر اس کے اپنے وزیروں اور افسروں نے غداری نہ کی ہوتی ۔ ٹیپو کے دربار کے با اثر افراد نے انگریزوں کے ساتھ مل کر مالیاتی اور دیگر فوائد حاصل کئے ۔ وہ انگریزوں کو تمام اہم معلومات فراہم کر رہے تھے۔ انہوں نے ٹیپو سلطان کو آخر وقت تک اندھیرےمیں رکھا ۔

ٹیپو کی زندگی کے آخری مرحلے پر روشنی ڈالتے ہوئے محب الحسن نے لکھا ہے کہ ٹیپو کے پانچ سینئر ترین افسروں نے اس کے خلاف سازش تیار کی ۔ انگریزوں کےساتھ اتحاد کیا اور اس کے زوال کا باعث بنے ۔ ان پانچ آدمیوں میں میر صادق،پورنیہ، دو فوجی کمانڈر سید صاحب اور قمرالدین اور میر ندیم قلعہ سرنگا پٹم کے کمانڈنٹ شامل ہیں۔

انہوں نے ٹیپو کے حکم کی نافرمانی کی۔ پورنیہ اور سید صاحب غیر فعال رہے اور برطانوی فوج کو بغیر رکاوٹ آگے بڑھنے دیا ۔

قلعہ سرنگا پٹم پر کامیاب حملہ میر صادق اور میر ندیم کی غداری کا نتیجہ تھا ۔ میر صادق نے تنخواہوں کی تقسیم کے بہانے میسور کی فوجوں کو قلعہ بندی میں موجود شگاف سے ہٹا دیا اور انگریزوں کو حملے کا اشارہ دیا ۔ میر ندیم نے ٹیپو کے فرار کو روکنے کے لئے قلعہ کے ایک دروازے کو کھولنے کا حکم ماننے سے انکار کردیا جس کے باعث ٹیپو زخمی ہوا اور مارا گیا ۔

پورنیہ کی غداری کا ذکر کرتے ہوئے مہاتما گاندھی نے بھی ایک بار لکھا تھا کہ وہ اس بات پر شرمندہ ہئں کہ پورنیہ، جس نے سلطان سے غداری کی ایک ہندو تھا ۔

علامہ اقبال نے میر جعفر اور میر صادق غداروں کے کردار کی یوں مذمت کی ہے

میر جعفر بنگال ، یا میر صادق دکن

ننگ آدم ،  ننگ دیں، ننگ وطن

اپنے ملک کی آزادی کے لئے اپنی جان کا نذرانہ دے کر ٹیپو نے عظیم قربانی کی مثال قائم کی اور باور کروایا کہ ہندوستان کی تاریخ اور قومی روایات میں اس سے شاندار مثال ملنا مشکل ہے ۔

CATEGORIES
TAGS
Share This

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus (0 )