شباب سے پہلے ( حصہ ہفتم ) | Before Shabab (Part 7)

شباب سے پہلے ( حصہ ہفتم ) | Before Shabab (Part 7)
امتحان بخیر و خوبی ختم ہو گیااور گھر آ کر قبلہ والد صاحب کو قبل از وقت اپنی کامیابی کی اطلاع دی

 سالِ دوٸم شروع ہونے پر مجھے گلے کی تکلیف شروع ہو گٸ ۔ رفتہ رفتہ تکلیف زیادہ ہوتی گٸ جس سے میری پڑھائی میں بہت کمی واقع ہو گٸ ۔ پڑھتا تو میں پہلے ہی واجبی سا تھا مگر اس تکلیف سے پڑھنا لکھنا یکسر موقوف ہو گیا ۔ میرے اعضاء میں ہر وقت تھکن سی رہتی تھی جس سے میرے لیے چلنا پھرنا محال ہو گیا ۔ اسی کشمکش میں وقت گزرتا گیا ۔ بہت علاج کروایا مگر کوٸی کار گر نہ ہوا حتہٰ کہ امتحان سر پر آن پہنچا ۔ تیاری نہ ہونے کی وجہ سے میں نے میڈیکل سرٹیفیکیٹ پیش کر کے یونیورسٹی میں سپلیمنٹری امتحان میں بیٹھنے کی اجازت لے لی ۔ امتحان شروع ہونے پر میں گھر چلا آیا ۔ والد صاحب کو میرے امتحان چھوڑ دینے کی وجہ سے بہت پریشانی ہوٸی اور اس کے ساتھ ساتھ میری صحت کی وجہ سے بھی ۔ گھر پر میری تکلیف میں قدرے آفاقہ ہوا میں نے خوب محنت سے پڑھاٸی شروع کر دی ۔ چونکہ سارے سال کی پڑھائی تین ماہ میں ختم کرنی تھی اس لیے اس تھوڑے سے عرصہ میں کورس ختم نہ ہو سکا ۔ امتحان کا وقت قریب آنے پر میں نے اپنے آپ کو امتحان پاس کرنے کے قابل نہ پایا اس لیے پھر ہتھیار ڈال دیے اور اگلے امتحان پر پروگرام اُٹھا رکھا ۔ تعطیلاتِ موسمِ گرماختم ہونے پر پھر کالج میں داخل ہو گیا ۔ بہت سے فیل شدہ اور میری طرح کے  بھاگے ہوۓ بھی آن ملے ۔ ہمارے حال پر یہ مصرع مناسبِ حال تھا کہ

, آ ملے ہیں سینہءچاکانِ چمن سے سینہ چاک
جونیر طالب علموں کے ساتھ بیٹھنے میں پہلے پہل کچھ خفت محسوس کی مگر آہستہ آہستہ اُن سے گُھل مل جانے پر
 اجنبیت دور ہو گٸی اس طرح ہم نے زندگی کا ایک قیمتی سال سہل انگاری , کاہلی اور بیماری کی نذر کر کے ایک نٸےجوش  اور ولولےسے کام شروع کر دیا اور دل میں عزم کر لیا کہ خواہ کچھ ہو اب وقت ضاٸع کرنا گناہ متصور کریں گے ۔ ابھی تک مجھے گلے کی تکلیف بدستور تھی ۔ میو ہسپتال معاٸنہ کروانے پر ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ گلے کا آپریشن کروا کے ٹانسلز نکلوا دیے جاٸیں وگرنہ تکلیف بڑہتی جاۓ گی  ۔ آخر کار کچھ سوچ بچار کے بعد میں نے آپریشن کروانے کا ارادہ کر لیا  ۔ ہوسٹل سے اجازت لے کر ای,این,ٹی وارڈ میں داخل ہو گیا  ۔ آپریشن سے دو روز پہلے مجھے ٹیکے وغیرہ لگتے رہے  ۔ تیسرے روز مریضوں کے مخصوص کپڑے پہنا کر مجھے آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا ۔ آپریشن تھیٹر میں جا کر مجھ پر بہت گھبراہٹ طاری ہوٸی  ۔ ماحول کچھ اس قدر دہشت انگیز سا تھا کہ اب بھی مجھے یاد آ جانے پر میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ آپریشن کی میز پر مجھے سیدھا لٹا دینے کے بعد ایک سفید چادر اُڑھا دی گٸی ایک خول جس کے اندر روٹی سی لگی ہوٸی تھی اس پر کلوروفارم چھڑک کر میرے چہرے پر رکھ دی گٸی ۔ ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ لمبے لمبے سانس لو ۔ میں بمشکل تین سانس ہی لینے پایا تھا کہ مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسی میری روح قبض ہو رہی ہے  ۔ یک بیک مجھے والدین کا خیال آ گیا اور میں نے محسوس کیا کہ میں دنیا والوں سے جدا ہو کر اگلی دنیا میں جا رہا ہوں  ۔ چند سیکنڈ بعد مکمل بے ہوشی طاری ہو گٸی ۔ اِس وقت سے ٹھیک آٹھ گھنٹے بعد مجھے ہوش آیا ۔ ہوش میں آتے ہی مجھے خون کی قے ہو گٸی ۔ ایک شخص نے میرا سر اور دوسرے نے ٹانگیں پکڑ رکھی تھیں  ۔ آپریشن کے دوران جو خون میرے معدہ میں اتر گیا تھا وہ ہوش آنے پر فوراً نکل گیا اور میں مکمل طور پر ہوش میں آ گیا ۔ تب مجھے درد کا احساس ہوا ۔ وہ رات میں نے بہت تکلیف میں گزاری ۔ آپریشن کے ایک ہفتہ بعد تک میں ہسپتال میں رہا اُس کے بعد مجھے جانے کی اجازت مل گٸی ۔ میں نہایت نحیف و نزار اور لاغر ہو کر واپس آیا ۔ ہوسٹل میں تمام لڑکے مجھے دیکھ کر حیران رہ گٸےکہ ایک ہفتہ میں میری حالت کیا ہو گٸی تھی ۔ کیونکہ  کسی کو علم نہیں تھا کہ میں آپریشن کروانے کے لٸے گیا ہوا ہوں سواۓ چند ایک کے ۔ ایک ماہ تک میں صرف دودھ کا استعمال کرتا رہا ۔ صحت پوری طرح بحال ھونے پر میں نے خوب جوش و خروش سے کام شروع کر دیا ۔ مجھے ایک ساتھی مل گیا جو میری طرح ایک سال ضاٸع کر چکا تھا ۔ ہم دونوں ایک ہی کمرہ میں رہتے تھے ۔ ہم دونوں ایک ہی جذبہ سے سر شار تھے کہ خوب ڈٹ کر کام کریں ۔ اس طرح مقابلہ میں آ کر خوب پڑھ لیا کرتے تھے ۔ وقت گزرتا گیا اور امتحان کی گھڑیاں قریب آتی گٸیں ۔ آخر ایک روز ہم کمرہ امتحان میں جا بیٹھے  ۔ دھڑکتے دلوں سے پرچہ ھاتھ میں لیا اور وقت ختم ہونے پر خوشی خوشی امتحان گاہ سے باہر آۓ ۔ امتحان بخیر و خوبی ختم ہو گیا ۔ گھر آ کر قبلہ والد صاحب  کو قبل از وقت اپنی کامیابی کا مژدہ سنایا اور رزلٹ کے انتظار میں بے قراری سے دن گزرنے لگے ۔ خدا خدا کر کے نتیجہ کا اعلان ہو گیا اور اخبار میں میرا نام کامیاب طلباء کی فہرست میں شامل تھا  ۔ میری امیدوں کے خلاف میرے نمبر بہت  کم آۓ جس کا مجھے بہت رنج ہوا  ۔ میٹرک میں بھی میرے ساتھ یہی ٹریجڈی ہوٸی تھی ۔ اِن دونوں امتحانوں کے نتاٸج کا مجھے آج تک افسوس ہے ۔ پاس ہونے کے بعد ابا جان نے مجھے انجینئرنگ کالج میں داخلہ کے مقابلہ کے امتحان کی تیاری کرنے کے لیے حکم دیا ۔ اگرچہ نمبر کم ہونے کی وجہ سے مجھے کامیاب ہونے کی چنداں امید نہ تھی مگر والد صاحب کی یقین دہانی پر کہ میاں صاحب جو اس وقت وزیرِاعلیٰ پنجاب تھے, داخل کروا دیں گے ٗ میں نے کام شروع کر دیا ۔ داخلہ تو شاید میاں صاحب کے کہنے پر بھی نہ ہوتا مگر قدرت نے پہلے ہی فیصلہ کر دیا کیونکہ میری غفلت کی وجہ سے مقابلہ کے امتحان کی تاریخ گزر گٸی ۔ اس طرح انجینئرنگ کالج میں داخلہ کے منصوبےخاک میں مل گٸے ۔ بعد کے حالات نے ثابَت  کر دیا کہ نہ داخل ہو سکنے میں بھی مصلحت ہی تھی ۔  تعطیلات ختم ہونے کے بعد ناچار  بی ایس سی میں داخلہ لیا ۔ اب کوٸی مقصد پیشِ نظر نہ تھا ۔ چونکہ ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا جا چکا تھا اس لٸے لازماً بی ایس سی ہی اگلی منزل تھی ۔
CATEGORIES
TAGS
Share This

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus (0 )