خلیل جبران — ایک اجنبی لڑکے سے دُنیا کے محبوب شاعر تک کا سفر Khalil Gibran — His Journey from a Stranger to the World’s Beloved Poet

🌿 سن 1895ء میں ایک دبلا پتلا 12 سالہ لڑکا بوسٹن کیس بندرگاہ پر جہاز سے اترا۔ اُس کے جوتے پرانے، جیب خالی اور انگریزی زبان میں اس کا لہجہ ٹوٹا پھوٹا تھا۔۔ وہ اپنی ماں اور بہن بھائیوں کے ساتھ لبنان کے پہاڑوں سے طویل سمندری سفر کر کے امریکہ آیا تھا۔ ساتھ صرف ایک ہی سرمایہ تھا ” امید” ۔ اس وقت کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہی بچہ ایک دن دنیا کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شاعروں میں شمار ہوگا۔
:مشکلات اور جدوجہد
امریکہ میں اس بچے کے لئے حالات نہایت نامساعد رہے ۔ اسکول میں بچے اُس کا مذاق اڑاتے، اساتذہ اُسے کم عقل سمجھتے اور اس کی سانولی رنگت کی وجہ سے اس کا مذاق اڑایا جاتا۔ اس کی زبان خاموش تھی لیکن اُس کے اندر ایک ایسی چنگاری جل رہی تھی جو دوسروں کو نظر نہیں آتی تھی۔ وہ زیادہ بولتا نہیں تھا، مگر اُس کا ذہن تصویریں بناتا۔ اُس کے خاکے وہ سب کچھ کہہ دیتے جو وہ الفاظ میں ادا نہیں کر پاتا۔ وقت کے ساتھ اُس نے انگریزی پر عبور حاصل کر لیا اور پھر اپنے الفاظ کے ذریعے ایک ایسی آواز تراشی جو آنے والی نسلوں تک گونجتی رہی۔
اس کا نام “خلیل جبران” تھا۔
:سانحات اور قربانیاں
جب وہ جوانی کی دہلیز پر تھا تو غموں نے اُس کے گھر کو اجاڑ دیا۔ اُس کی ماں، بہن اور سوتیلا بھائی سب ایک ایک کر کے چل بسے۔ صرف ایک بہن زندہ رہی جو کپڑوں کی دکان پر کام کرتی تاکہ وہ تعلیم جاری رکھ سکے۔ یہ قربانی جبران کی زندگی بھر کا سرمایہ بن گئی۔
سن 1923ء میں اُس نے” دی پروفیٹ” شائع کی، ایک ایسی کتاب جس نے ادب کی دنیا کو بدل کر رکھ دیا۔ مختصر مگر لازوال تصنیف جس میں محبت، غم، آزادی اور خوشی جیسے موضوعات پر شاعر انہ حکمت سمیٹی گئی۔ یہ شاعرانہ نثر آج بھی دلوں کو چھو لیتی ہے۔
یہ کتاب 100 سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے ۔ فنکاروں، موسیقاروں اور عام لوگوں نے اسے پڑھا۔ ہر کسی کو یوں لگا جیسے یہ تحریریں صرف اُسی کے دل کے آواز ہیں۔ آج یہ کتاب دنیا کے کونے کونے میں پڑھی جاتی ہے۔
ایلوس پریسلی نے اسے پڑھا، جان لینن نے اس کے اقتباسات دہرائے اور صدر جان ایف کینیڈی نے اپنی لائبریری میں محفوظ رکھا۔ آج بھی یہ کتاب زندگی کے اہم مواقع پر بطور تحفہ دی جاتی ہے۔
:خلیل جبران کی انفرادیت
جبران نے کبھی اپنی زندگی کی مشکلات کا واویلا نہیں کیا —اُس نے صرف لکھا۔ وہ لڑکا جسے کبھی “ناپسندیدہ” کہا جاتا تھا، تھا، انسانی تاریخ کے سب سے محبوب اور اثر انگیز آوازوں میں سے ایک بن گیا۔ دنیا کا محبوب شاعر اور مفکر بن گیا۔
اُس کے الفاظ آج بھی ہمیں یہ سکھاتے ہیں:
“رنج و الم سے سب سے مضبوط روحیں جنم لیتی ہیں…
:اضافی حقائق
خلیل جبران 1883ء میں لبنان کے شہر بشری میں پیدا ہوئے۔وہ نہ صرف شاعر بلکہ مصور بھی تھے۔اُن کے فن پارے نیویارک کے بڑے عجائب گھروں میں آویزاں ہیں۔
وہ سن1931ء میں جگر اور پھیپھڑوں کی بیماری کے باعث 48 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ اُنہیں اُن کی وصیت کے مطابق لبنان میں دفن کیا گیا۔
خلیل جبران کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل طاقت زبان، نسل یا دولت میں نہیں بلکہ *حوصلے، صبر اور اپنی ذات پر یقین میں ہے۔ ایک اجنبی لڑکا جسے زمانہ ٹھکرا رہا تھا، اس نے اپنے لفظوں سے دنیا کوجیت لیا۔
🌟 خلیل جبران کے مشہور اقتباسات
- محبت کی شدت کا اندازہ جدائی کے لمحات میں ہوتا ہے۔
- “آزادی تب تک مکمل نہیں ہوتی جب تک آپ کے دل میں خوف موجود ہو۔”
- “خوشی اور غم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں—جب ایک مسکراتا ہے تو دوسرا آنسو بہاتا ہے۔”
- “آپ کا دوست وہ ہے جو آپ کے دل کی موسیقی کو سنتا ہے اور جب آپ کے ہونٹ خاموش ہوں تو بھی اسے دہراتا ہے۔