مدراس کا قحط 1876–1878: برطانوی راج کا ایک سیاہ باب Madras Famine 1876–1878: A Dark Chapter of British Raj

تاریخ میں کچھ سانحات ایسے ہیں جو صرف ایس وقت یا علاقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والی نسلوں کی یادوں میں بھی زندہ رہتے ہیں۔ مدراس کا قحط 1876 تا 1878 انہی میں سے ایک سانحہ ہے، جس نے لاکھوں انسانوں کو بھوک اور بیماری کے ہاتھوں لقمۂ اجل بنا دیا۔ یہ دور برطانوی نوآبادیاتی راج کا تھا، جب انسانی جانوں سے زیادہ اہمیت اناج کی برآمد اور ٹیکسوں کی وصولی کو دی جاتی تھی۔
قحط کی بنیادی وجوہات
یہ قحط بظاہر خشک سالی کے نتیجے میں شروع ہوا، مگر اصل تباہی کی وجہ برطانوی حکومت کی ظالمانہ پالیسیاں تھیں۔ اس وقت بھی جب مقامی لوگ فاقوں سے مر رہے تھے، اناج یورپ کی منڈیوں میں بیچا جا رہا تھا۔ برطانوی انتظامیہ نے نہ صرف خوراک کی برآمد جاری رکھی بلکہ ٹیکسوں کی وصولی بھی سختی سے کی، یوں مقامی آبادی کا جینا دوبھر ہو گیا۔
انسانیت کا امتحان
قحط کے دوران گاؤں کے گاؤں بھوک اور بیماری سے اجڑ گئے۔ خاندان ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گئے تھے۔ بچ جانے والے لوگوں نے ایسے حالات بیان کیے جن پر یقین کرنا مشکل ہے۔ بعض علاقوں میں آدم خوری تک کی خبریں سامنے آئیں، جس کی وجہ سے کمزور اور نیم مردہ مرد بھی اپنی بیوی اور بچوں کی حفاظت پر مجبور ہو گئے۔ یہ منظر انسانی بے بسی اور بقا کی جنگ کی ایک المناک تصویر پیش کرتا ہے۔
برطانوی راج کی ناکامی
مدراس کے قحط نے برطانوی نوآبادیاتی حکومت کی سنگین ناکامی کو نمایاں کر دیا۔ عوام کے لیے خاطر خواہ امداد فراہم کرنے کے بجائے حکومت نے صرف اپنے معاشی مفادات کو ترجیح دی۔ یہی استحصالی رویہ اس قحط کو ایک عام خشک سالی سے بڑھا کر ایک انسانی المیہ بنا گیا۔
ایک تلخ یادگار
اس قحط میں پانچ سے دس ملین (50 لاکھ سے ایک کروڑ) افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ واقعہ آج بھی بھارت کی اجتماعی یادداشت پر ایک گہرا زخم ہے۔ یہ سانحہ یاد دلاتا ہے کہ جب حکمران اپنے عوام کی بھوک اور تکالیف پر آنکھیں بند کر لیں تو تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔
✍️ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مدراس کا قحط صرف ایک قدرتی آفت نہیں تھا، بلکہ نوآبادیاتی استحصال اور غفلت کا ایسا المیہ تھا جس نے لاکھوں جانیں نگل لیں اور برطانوی راج کی اصل حقیقت کو بے نقاب کر دیا۔