خوف, زندگی کا حقیقی اور سچا دشمن. Fear, the real and true enemy of life

خوف,  زندگی کا حقیقی اور سچا دشمن.             Fear, the real and true enemy of life
صرف خوف زندگی کو شکست دینے کے لیے کافی ہے ۔

 

 ایک جملہ جوخوف کے اصل مفہوم کی وضاحت
کرتا ہے وہ ہے , زندگی کا حقیقی اور سچا دشمن’ ۔ صرف خوف زندگی کو شکست دینے کےلیۓ کافی ہے ۔ یہ ایک چالاک دشمن ھے , بےرحم اور مکار ہے ۔ یہ ہمیشہ ہمارے
کمزور  پہلوؤں پر نظر رکھتا ہے ۔ یہ ہمیشہ دماغ میں سر اٹھاتا ہے ۔

وہ لمحہ جب آپ سکون سے لیٹ کر خوشگوار یادوں کو دہرا رہے ہوتے ہیں , خوف ایک ہلکے شک کےلباس میں ظاہر ہوتا ہے ۔ شک دماغ میں موجود غیر یقینی کے احساس سے ٹکراتا ہے , غیریقینی کا یہ احساس خوف کو باہر دھکیلنے کی کوشش کرتا ہے مگر یہ ایک کمزور سپاہی ہےجو کہ مقابلے کے لیۓ درکار ہتھیاروں سے محروم ہے چناچہ شک بہت آسانی سے اس کمزورسپاہی کو چاروں شانے چت کرتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے ۔

آپ پریشان ہو جاتے ہیں تب عقل آگے بڑھتی ہے اور دفاع کی کوشش کرتی ہے ۔ عقل تمام تر جدید ہتھیاروں سےمسلح ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ اعلیٰ تدبیراورکامیابیوں کے طویل سلسلے کے باوجود وہ
کمزور پڑ جاتی ہے اور آپ خود کو خوف کے بھنور میں پھنسا ہوا پاتے ہیں ۔

اب خوف آپ کے جسم پر اثرات ظاہر کرناشروع کر دیتا ہے ۔ جسم میں یہ احساس سرایت کر جاتا ہے کہ کہیں کچھ غلط ہو رہا ہے ۔
پھیپھڑے پرندے کی طرح پھڑپھڑانے لگتے ہیں ۔ کان بند ہو جاتے ہیں ۔ گھٹنے جسم کابوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہتے ۔ زبان سوکھنے لگتی ہے ہمت جواب دے جاتی ہے , صرف آنکھیں اچھی طرح کام کرتی ہیں اور خوف کے مقام پر مناسب توجہ دیتی ہیں ۔

اس حالت میں آپ جلد بازی میں کچھ نتائج نکالتے ہیں ۔ آپ اپنے اتحادیوں یعنی امید اوراعتماد کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور خوف جو صرف ایک تاثر ہے آپ پر فتح پا لیتا ہے ۔
اس تمام معاملے کو الفاظ کا جامہ پہنانا ایک مشکل امر ہے کیونکہ خوف کی حالت میں آپ کو اپنا برا انجام سامنے دکھائی دینے لگتا ہے یہاں تک کہ الفاظ بھی آپ کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں ۔

مگر آپکو اپنے خوف کےاظہار کے لیۓ جدوجہد کرنا ہو گی ۔ خوف پر الفاظ کی روشنی ڈالنا ایک دقت طلب امر بن
جاتا ہے لیکن اگر اس دقت پر قابو نہ پایا گیا اور اس کے اظہار کے لیۓ اس پر الفاظ کی روشنی نہ ڈالی گئی تو یہ ایسی بے آواز تاریکی میں تبدیل ہو جاۓ گا جس کا سامنا
کرنے سے آپ ہمیشہ گھبراتے رہیں گے اور یوں خوف کے مزید حملوں کے لیۓ ایک دروازہ کھول دیں گے کیونکہ آپ نے اپنے اس دشمن سے کبھی لڑائی ہی نہیں کی جس نے آپ کو شکست دے رکھی ہے۔


خوف ایک فطری , طاقتور اورقدیم انسانی جذبہ ہے اس میں حیاتیاتی اور کیمیاوی ردّعمل کے ساتھ ساتھ ایک انفرادی جذباتی ردّعمل بھی شامل ہے ۔ جب آپ خود کو خوفزدہ کرنے والی صورتحال کا سامنا کرنے پرمجبور کرتے ہیں تو آپ کی خوداعتمادی بڑھ جاتی ہے , آپ کی عزتِ نفس بڑھ جاتی ہےاور آپ کااپنی ذات پر غرور بڑھ جاتا ہے آخر کار آپ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں کوئی بھی چیز آپ کو خوفزدہ نہیں کر سکتی۔
 

 

CATEGORIES
TAGS
Share This

COMMENTS

Wordpress (0)
Disqus (0 )