آج میٹرک کا رزلٹ  آنا تھا ۔ سکول میں تمام ٹیچرز صبح سے ہی تیار تھیں کہ جیسے ہی رزلٹ آتا ہے وہ فورا اپنی کلاس کی بچیوں کے نمبر چیک کر کے لسٹیں تیار کر لیں ۔ پرنسپل صاحب نے ہدایات بھیج رکھیں تھیں کہ جتنی جلدی ہو سکے تمام بچیوں  کے نام اور نمبر لکھ کر بھیج دیے جائیں ۔ 

تمام اساتذہ لاہور بورڈ کی ویب سائٹ کھول کر تیار بیٹھی تھیں۔ منٹ اور سیکنڈ گنے جا رہے تھے ۔  جیسے ہی وقت مکمل ہوا سب نے اپنی اپنی کاپی پینسل پکڑی اور رولنمبرڈال ڈال کر نمبر چیک کرنے شروع کر دئے ۔ 

ہہ دیکھ کر سب نے سکھ کا سانس لیا کہ تمام طالبات پاس ہو چکی ہیں اور جن دو طالبات کی کمپارٹ آئی ہے ان کا داخلہ سکول والوں نے پہلے ہی پرائیویٹ امیدوار کے طور پر بھیجا تھا ۔ اس طرح سکول کی عزت بچ گئی ۔ 

طالبات کے گھروں سے فون آنے لگے مبارکبادوں کے تبادلے ہونے لگے ۔  سکول والے فخریہ انداز میں اپنے ٹوپر بچوں کے رزلٹ سکول کے باہر آویزاں کرنے لگے ۔ 

نمبر جو خوشی کا باعث تھے ، فخر کا باعث تھے ، کسی کا زیادہ اور کسی کا کم قابل ہوناا ظاہر کر رہے تھے ۔ نمبر، جو سکول کی عزت بڑھا رہے تھے ، اکیڈمیوں کے لئے مزید کاروبار کے مواقع پیدا کر رہے تھے ۔  

بہت سے لوگ دوسروں کے رولنمبر کے ذریعے ان کے نمبر معلوم کرنے کی کوشش کر رہے تھے تا کہ کم نمبر  آنے پر دوسروں پر طنز کے نشتر چلائے جائیں یا پھر جان بوجھ کر انجان بن کر ان کی سچائی کا امتحان لیا جائے ۔ 

الغرض میٹرک کا رزلٹ  صرف ایک رزلٹ نہیں بلکہ اپنے اندر کئی پہلو سموئے ہوئے ایک تہوار کی حیثیت رکھتا ہے جو کہیں خوشی کا پیغام لاتا ہے تو کہیں دکھ اور پشیمانی کا سبب بنتا ہے ۔

 

Published by Saira Tanvir

Saira Tanvir Is not only a writer but also a philanthropist. she is a teacher and has won many speech contests due to her good posture. She follows her passion and is very successful in motivating her students and now wants to share this experience with her readers.

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *