نیوزی لینڈ کے شہر ہملٹن میں ایک جوڑا اپنے گھر کے باغیچے میں گوڈی کر رہا تھا کہ ان کی کدال کسی سخت چیز سے ٹکرائی ۔ پہلے تو انہوں نے خیال کیا کہ شاید یہ کوئی بڑا پتھر ہو گا ۔ یہ سوچ کر انہوں نے اسے باہر نکالنے کی غرض سے ارد گرد کی مٹی کو کھودنا شروع کیا ۔

جب انہوں نے اس بڑے پتھر کو باہر نکالا تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی پتھر نہیں بلکہ ایک بہت بڑے سائز کا آلو ہے ۔ جب انہوں نے اس آلو کا وزن کیا تو یہ تقریبا ساڑھے سات کلو تھا یعنی تقریبا ایک چھوٹی آلو کی بوری کے برابر  ۔

اس آلو کی شہرت جلد ہی تمام شہر میں پھیل گئی۔ لوگ دور دور سے اس عجیب و غریب آلو کو دیکھنے کے لیے آنے لگے ۔ اس آلو کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے ہاتھ گاڑی کا استعمال کیا گیا ۔ باغ کے مالک کا کہنا ہے کہ اس نے اس آلو کا اندراج گنز بک آف ورڈ ریکارڈ میں میں درج کروانے کے لیے درخواست دے دی ہے ۔ اس سے پہلے دنیا کے سب سے بڑے آلو کا وزن پانچ کلو درج کیا گیا ہے ۔۔

باغیچے کے مالک کا کہنا ہے کہ اس نے قدرتی کھاد کے علاوہ کوئی خاص چیز استعمال نہیں کی ۔ یہ قدرت کا ایک عجوبہ ہے ۔ کچھ روز گزر جانے کے بعد یہ آلو سکڑنے لگا اور اس میں بدبو بھی پیدا ہو گئی تاہم باغیچے کے مالک نے اسے ڈیپ فریزر میں رکھ کر محفوظ کر لیا ۔

اس عجیب الخلقت آلو کی پیدائش یہ ظاہر کرتی ہے کہ قدرت نے اس  زمین میں کیسی کیسی صلاحیتیں رکھ چھوڑی ہیں ۔ اس سے مستقبل میں خوراک کی کمی سے نمٹنے کے لیے بھی کئی امکانات کا راستہ کھلتا دکھاٸی دیتا ہے ۔

یہ واقع اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ یہ زمین اپنے باسیوں کو کبھی بھی رزق کی کمی نہیں ہونے دے گی ۔ جیسے جیسے انسان تحقیق اور جستجو میں آگے بڑھتے جائے گا یہ بھی سپنے نت نئے راز اگلتی رہے گی اور اقبال کے اس شعر کا مصداق ثابت ہو گی ۔

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

Published by Saira Tanvir

Saira Tanvir Is not only a writer but also a philanthropist. she is a teacher and has won many speech contests due to her good posture. She follows her passion and is very successful in motivating her students and now wants to share this experience with her readers.

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *