بپر جوائے۔پاکستان کے ساحلی علاقوں کو متاثر کرنے والا سمندری طوفان Beeper Joy. Cyclone affecting the coastal areas of Pakistan

بپر جوائے۔پاکستان کے ساحلی علاقوں کو متاثر کرنے والا سمندری طوفان Beeper Joy. Cyclone affecting the coastal areas of Pakistan

پاکستان میں  سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں اگلے چوبیس گھنٹوں میں ایک شدید سمندری طوفان کے ٹکرانے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔اس سمندری طوفان کا نام، بپر جوائے ہے ۔ یہ نام بنگلہ دیش نے رکھا ہے اوربنگالی زبان میں اس کے معنی قدرتی آفت یا شدید تباہی کے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اس سائیکلون کے باعث بحیرہ عرب میں 155سے165 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یہ طوفان آہستہ آہستہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے ۔

ڈی ایم اے کے مطابق اس طوفان کی وجہ سے کراچی میں 100 ملی میٹر سے زیادہ جبکہ سجاول، بدین اور ٹھٹھہ میں 300 سے 400 ملی میٹر تک بارش ہو سکتی ہے، اس کے علاوہ اربن فلڈنگ کا خطرہ بھی درپیش ہے ۔ سندھ کے علاوہ پنجاب کے بالائی علاقوں میں بھی مغربی ہواوں کے باعث شدید بارش اور آندھیاں آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود ھے۔

اس سے پہلے 1999 میں بھی اسی شدت کا ایک طوفان کیٹی کی بندرگاہ سے ٹکرایا تھا ۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ طوفان بھی کیٹی کی بندرگاہ سے ٹکرائے گا ۔ 1999 میں آنے والے سمندری طوفان نے بدترین تباہی کی مثالیں قائم کی تھیں ۔درجنوں لوگ لاپتہ اور ہلاک ہوئے تھے گھروں کی تباہی کے باعث لاتعداد لوگوں کو ریلیف کیمپوں میں رہنا پڑا اسی طرح زرعی زمین کی تباہی نے بہت سے لوگوں کو معاشی بد حالی میں مبتلا کیا ۔اس طوفان میں اٹھنے والی لہریں قریبا 28 فٹ اونچی تھیں ۔

آخر یہ سمندری طوفان کیسے پیدا ہوتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سائیکلون یا سمندری طوفان گرم ہواؤں کی وجہ سے جنم لیتے ہیں اور ایک گول دائرے کی شکل میں آگے بڑھتے ھیں ۔ جیسے جیسے سمندر کے قریب کی ہوا اوپر اٹھتی ہے اس کا درجہ حرارت کم ہوتا جاتا ہے اور یہ بادل کی شکل اختیار  کر لیتا ہے جس کی وجہ سے سمندر کے قریب ہوا میں کمی آجاتی ہے جس سے کم دباؤ کا علاقہ پیدا ہو جاتا ہے ۔ اس کم دباؤ والے علاقے کے خلا کو پر کرنے کے لئے اردگرد سے ہوا تیزی سے آتی ہے اور گرم ہو کر گول دائرے میں گھومتی ہے ۔اس گھومتے ہوئے طوفان کے مرکزی حصے کو آئی آف دی سٹرام کہا جاتا ہے

جیسے جیسے یہ ہوا بلند ہوتی ہے سمندری سطح کے قریب ہوا میں کمی ہوتی ہے۔ اسے کم دباؤ کا علاقہ کہتے ہیں۔

اس کم دباؤ والے علاقے کی جانب خلا کو پُر کرنے کے لیے اور ہوا حرکت میں آتی ہے جو گرم ہو کر ایک گول دائرے کی صورت میں گھومتی ہے۔

ایسے سمندری طوفان جو گھومتے ہیں، ان کا ایک مرکزی نقطہ ضرور ہوتا ہے۔ اسے طوفان کی آنکھ یعنی ’آئی آف دی سٹورم‘ کہا جاتا ہے جو پرسکون حصہ ہوتا ہے۔

یہاں ہوا کا دباؤ کم ہوتا ہے اور اسی نقطے کے گرد طوفان گھومتا ہے۔ جیسے جیسے گرم ہوا اوپر اٹھتی ہے اور اردگرد کی ہوا اس کی جگہ لیتی چلی جاتی ہے ،طوفان کا حجم بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ جیسےجیسے یہ طوفان زمین کے قریب آتا ہے تو اس کی شدت میں کمی واقع ہو جاتی ہے مگر تیز ہواؤں اور بارش کے سبب یہ کافی نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ ماہرین اس کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے نقصانات سے متعلق پیشگوئی کر سکتے ہیں ۔ مزیدنقصانات سے بچنے کے لئے لوگوں کو بروقت آگہی فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی تاکہ لوگ خطرے کے  مقام سے نکل جائیں ، راشن کا بروقت انتظام کر لیں ۔ لوگوں کو خطرے سے خبردار کرنے کے لئے سائرن بھی بجائے جا سکتے ہیں۔

 

CATEGORIES
TAGS
Share This

COMMENTS

Wordpress (2)
  • comment-avatar
    Sana 10 months

    Thanks for sharing

  • comment-avatar

    Artificial Intelligence: Where Are We Headed?

  • Disqus (0 )